نئی دہلی 23 مارچ(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )جے این یو طلباء اور ٹیچرس ایسوسی ایشن (JNUTA) کے ’محفوظ جے این یو مارچ‘ کو دہلی پولیس نے درمیان میں ہی روک لیا۔جے این یو کے طالب علم اور ٹیچرس جنسی تشدد، کلاس میں لازمی حاضری اور خود مختاری جیسے بہت سے معاملات کو لے کر کیمپس سے پارلیمنٹ تک احتجاجی مارچ نکال رہے تھے۔ طالب علموں کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں پولیس نے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کرتے ہوئے بہت سے طالب علموں کو حراست میں بھی لے لیا۔ مظاہرین جے این یو کے پروفیسر اتل جوہری کو برخاست کیے جانے کا بھی مطالبہ کرر ہے تھے ۔ مظاہرین طلباء کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کے ملزم پروفیسر اتل جوہری کو ضمانت دیئے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ طالب علموں کا یہ بھی الزام ہے کہ پروفیسر پر وائس چانسلر اور حکومت کے آدمی ہونے کی وجہ سے کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔مظاہرین طالب علم کیمپس سے پارلیمنٹ تک آئی این اے ہوتے ہوئے جا رہے تھے جہاں پولیس نے انہیں روکنے کے لئے بیر ی کنڈنگ کر رکھی تھی۔ جب طالب علم اسے توڑ آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگے تو پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے واٹر کینن کا سہارا لیا۔ پولیس نے بہت سے طالب علموں کو حراست میں بھی لیا ہے۔